خودی کو کر بلند اتنا
خودی“ کا لفظ تکبر و غرور یا اردو و فارسی کے لغوی معنوں میں استعمال نہیں کیا ہے۔ ان کے نزدیک خودی نام ہے احساسِ غیرت مندی کا، جذبہ خوداری کا اپنی ذات و صفات کا پاس و احساس کا، اپنی انا کو شکست سے محفوظ رکھنے کا، حرکت و توانائی کو زندگی کا ضامن سمجھنے کا، مظاہراتِ فطرت سے بر سر پیکار رہنے کا اور دوسروں کا سہارا تلاش کرنے کی بجائے اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کا۔ اقبال کی تعلیمات کا دائرہ کار کسی خاص وقت تک محدود نہیں ہے۔ اقبال ہر دور کے شاعر و مفکر ہیں۔ ان کے نظریات حصولِ پاکستان کی ایک وجہ ضرور ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اقبال کے خوابوں کے مطابق ایک الگ مسلم خطے کے قیام سے ان کی تعلیمات کا سلسلہ ختم ہوگیا ۔ ایسا ہرگز نہیں ہے ۔ تعلیماتِ اقبال کی کل بھی ضرورت تھی جب امتِ مسلمہ کا شیرازہ بکھر چکا تھا اور ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں تھا اور آج بھی ضرورت ہے جب اس امتِ کو سازشوں کے عمیق ترین سائے گھیرے ہوئے ہیں ۔ آج بھی اقبال کی تعلیمات ، ان کے افکار، ان کی روحانی اور اخلاقی اقدار کی ترویج کی کوششوں کا بنظر غائر مطالعہ کیا جائے تو لامحالہ اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ عہدِ حاضر می...